اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ اگر یمن کے خلاف فضائی اور زمینی حملے جاری رہے تو صنعا اپنی دفاعی حکمت عملی اور جنگی نظریے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے تبدیل کرسکتا ہے۔
محمد البخیتی نے سعودی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاض کی قیادت ’’اسٹریٹجک اندھے پن‘‘ کا شکار ہے اور اب تک یمن میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکی۔
انہوں نے کہا کہ یمن اب بھی جامع اور قومی امن کا خواہاں ہے، تاہم سعودی حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو یمنی قیادت اپنی دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کرے گی۔
البخیتی کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے یمن کا محاصرہ برقرار رکھنے اور جنگ جاری رکھنے پر اصرار کا مقصد واشنگٹن اور اسرائیل کی حمایت حاصل کرنا اور امن سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے بچنا ہے۔
انصار اللہ کے رہنما نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ یمن میں سعودی عرب کی جانب سے کسی بھی ’’حماقت یا جارحیت‘‘ کا جواب سعودی مفادات کے خلاف دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی اقتصادی مفادات، بنیادی ڈھانچے اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
محمد البخیتی نے یہ بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات موجودہ سعودی جنگ میں براہِ راست شریک نہیں ہے۔
انہوں نے ابوظہبی کو مشورہ دیا کہ وہ امریکا کے اتحاد سے باہر نکلے اور غیر جانب دارانہ پالیسی اختیار کرے تاکہ اسے اس جنگ کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رہنے میں مدد مل سکے۔
اس سے قبل یمن کے نائب وزیر خارجہ علی الصبری نے بھی تسنیم سے گفتگو میں کہا تھا کہ یمنی مسلح افواج سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھیں گی جب تک یمن کا محاصرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتا۔
انہوں نے سعودی فضائیہ کی جانب سے یمن کے مختلف علاقوں اور صوبوں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صنعا کو جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
علی الصبری کے مطابق یمنی مسلح افواج بحیرہ احمر میں ’’محاصرہ بمقابلہ محاصرہ‘‘ کے اصول کے تحت اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
آپ کا تبصرہ